Wednesday, August 26, 2015

Profile: Anum Akram - Referred

 Revised
Anum Akram-Profile
Amna Sangi
“Man can live about forty days without food, about three days without water, about eight minutes without air, but only for one second without hope” That’s the reality of life every person need to live in the behalf of hopes or with some determinations likewise Here is many things that can make hurdle towards your dream in Which that can be anything any person or any disease.Here we see how paralysation become the dignity. 

Paralysation can break the body but it can't break the soul as well spirit of that person who wants to be do something for her future, until and unless they failed to fulfill their desires like this here is a girl who is paralysis but have a high spirit to do something for her life and family. 
A girl her name Anum akram born on 8th of march 1978, having small height, well-mannered creative and innovative, She belongs to middle class family and has eight siblings' in them four are physically disable but her ambition's and kindness towards others make her a wonderful personality among in all, done her matriculation from Government Girls school Karachi, She passed her graduation from Madera Millet college from Karachi.

Afterward she started taking interests in designing patterns, layouts’, Anum is habitual to share her perceptions, ideas to others always. 

. In commence people used to discourage and taunts her but she never ever give them reply back. even she always stood like a rock, having a power of communication with different sort of voice with people And always came with positive attitude after seeing all this everyone get impressed by her, Moreover. She heartily like cricket team of Pakistan, usually likes to watch cricket and she also likes the different tasty food.. 

   She Said “there are many ups and downs in life but it is a part of our exam we have to face this all and I have become more efficient in my work and if you want to do everything you have do hard work that everyone can appreciate you and recognize you by your talent” People get excited by her hardworking and passion. Anum enhance her talent in designing and techniques, challenging. 

Today Anum is a team player and helps everyone in design development ,She fulfills her life with colors of success determination and hard work also she always believes in that in the fact that hard pays off and she will become a designer one day.

She thinks that “Beliefs have the power to create and the power to destroy. Human beings have the awesome ability to take any experience of their lives and create a meaning that disempowers them or one that can literally save their lives.” 

Furthermore she said that if every person track down his determination in true or we can say right way all of us can easily achieve the goal of life, hope plus some efforts and hard work become the recipe of success follow it go towards it.

Written by Amna sangi

Roll # 60 M.A Previous
--------------------------- First version  ----------------------
Very short, it should be around 500 words. observe para. Proper noun should be with caps. fulstops  and commas are not proper. What is unique? extra ordinary u failed to highlight it.

 Profile: Anum Akram by: Amna Sangi 
 Paralysation can break the body but it can't break the soul as well spirit of that person who wants to be do something for her future, until and unless they failed to fulfill their desires like this here is a girl who is paralysis but have a high spirit to do something for her life and family. A girl her name Anum akram born on 8th of march 1978,having small height, well-mannered creative and innovative, She belongs to middle class family and has eight siblings' in them four are physically disable but her ambition's and kindness towards others make her a wonderful personality among in all, done her matriculation from Government Girls school Karachi, She passed her graduation from madremilat college from Karachi. Afterward she started taking interests in designing patterns, layouts’, Anum is habitual to share her perceptions, ideas to others always.In commence people used to discourage and taunts her but she never ever give them reply back. even she always stood like a rock, having a power of communication with different sort of voice with people And always came with positive attitude after seeing all this everyone get impressed by her, Moreover. She heartily like cricket team of Pakistan, usually likes to watch cricket and she also likes the different tasty food.. She Said “there are many ups and downs in life but it is a part of our exam we have to face this all and I have become more efficient in my work and if you want to do everything you have do hard work that everyone can appreciate you and recognize you by your talent” People get excited by her hardworking and passion. Anum enhance her talent in designing and techniques, challenging.
Today Anum is a team player and helps everyone in design development ...anum fulfills her life with colors of success determination and hard work also she always believes in that in the fact that hard pays off and she will become a designer one day.
 Written by-Amna sangi Roll # 60 M.A Prev Second semester Aug 2015

نئے پل سے بدین اسٹاپ تک کیا final


The writer did not improve the piece despite continuous reminders
نیا پل سے بدین اسٹاپ تک کا بدلتا روپ


حمیرا عبدالستار



وقت کے ساتھ ساتھ بہت سی چیزیں تبدیل ہوجاتی ہیں۔ تاریخ جہاں ہمیں شہرکے شہر آباد ہونے کی داستاں سناتی ہے تو وہیں ان کے غرق ہونے کا بھی پتہ دیتی ہے۔ صدیوں سے یہی سلسلہ چلا آرہا ہے، اگر ایسا نہ ہوتا تو آج "موئن جو دڑو ''آباد ہوتا۔



حیدرآباد جسے کبھی نیرون کوٹ کہا جاتا تھا وہ آج ہواؤں کے شہر کے طور پے پہچانا جاتا ہے، وقت کے ساتھ ساتھ اس شہر نے بہت سی ترقی کی منازل طے کی ہیں۔ایسے علاقے جو کبھی جنگل کی تصویر پیش کرتے تھے ،وہ آج شہر کے بازاروں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ ہم جس علاقے کی بات کر رہے ہیں، وہ نیا پل سے بدین اسٹاپ تک کے علاقے ہیں جہاں وقت کے ساتھ بہت سی اہم تبدیلیاں رونماں ہوئی ہیں۔



بیس برس میں اس علاقے میں بہت تبدیلیاں آئیں۔ قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ سندھ ا خاص اہمیت کا حامل ہے ، جہاں ہر رنگ و نسل کے لوگ آکر آباد ہوئے۔ بنگال سے آئے ہوئے لوگوں نے کراچی کو اپنا ٹھکانا بنا یاتواسی طرح کو ئٹہ، پنجاب، خیبر پختونخوا اور دیگر علاقوں سے آئے ہوئے لوگوں نے نیا پل کو اپنا ٹھکانابنا لینے میں عافیت جانی ۔ یہ تب کی بات ہے جب حیدرآباد کی ٹیکسٹائل صنعت عروج پر تھی۔ یہ علاقہ ان کاخانوں کے مزدوروں کی رہائشی بستیوں کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ علاقہ کاروباری مرکز بن گیا۔ 



نیا پل وفاقی وزیر مواصلات محمد خان جونیجو نے ایوب خان کے زمانے میں تعمیر کیا تھا۔ اسکے دائیں بائیں دوکانوں کی لمبی قطاریں اس پل کی خوبصورتی کا ایک عنصر ہیں۔ ان جو توں کی دوکانوں کے باہر آویزاں جوتے مختلف ثقافتوں کی رونمائی کرتے ہیں ،یہ دوکانیں پٹھانوں کی آباد کردہ ہیں ۔یہاں انڈس گلاس ورکس کے ساتھ پرانی بستی پنہور گوٹھ اور ماچھی گوٹھ بھی تھے۔



اس علاقے کو جوتامارکیٹ کی نظر سے دیکھا جانے لگا۔پہلے یہاں چند دوکانیں تھیں لیکن 20 برس میں آبادی بڑھتی گئی جس کے ساتھ ان کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا گیا،جن لوگوں نے یہ علاقہ آباد کیا وہ آج مٹی اوڑھ کر سوچکے ہیں۔ نئی نسل تاریخ سے ناواقف ہے جس کے باعث یہ علاقہ اپنی تاریخ کو فراموش کرتا جارہا ہے۔



تھوڑا آگے بڑھیں تو ریل کی چکمتی پٹریاں نظر آتی ہیں، جس کے کچھ فاصلے پر ریلوے اسٹیشن واقع ہے جہاں سے ہزاروں لوگ اپنی منزل کے سفر کا آغاز کرتے ہیں۔چند قدم آگے چلیں تو سبزی منڈی واقعہ ہے جہاں خریداروں کا ہجوم لگا رہتا ہے۔ یہ روڈ بیس برس پہلے اتنا آباد نہیں تھا جتنا اب ہے۔ دوکانیں تو بنی ہیں لیکن اسکے ساتھ ساتھ عمارتوں میں بھی خاطر خواں اضافہ ہواہے ،جس کے باعث علاقہ آبادی کے لحاظ سے بھی پھیلتا جارہا ہے۔



سبزی منڈی سے کچھ فاصلہ پر بدین اسٹاپ ہے، یہ بھی عجیب اتفاق ہے کے یہاں سے صوبے کے اکثر شہروں کے لئے گاڑیاں روانہ کی جاتی ہیں مگر اس کا نام بدین اسٹاپ سے مشہور ہے۔ بدقسمتی کہیں کہ یہ اہم سڑک ہمیشہ ٹوٹی ہوئی ملتی ہے۔ 



یہ علاقہ بڑی آبادی پر مشتمل ہے جہاں مختلف رنگ ونسل کے لوگ جن میں پٹھان ،سندھی ،پنجابی ،اور مہاجر کئی سالوں سے رہائش پذیر ہیں۔ اس کے علاوہ کوئٹہ سے آنے والے لوگ کاروبار بھی کررہے ہیں لیکن جن لوگوں نے اس علاقے کو آباد کیا وقت نے انکا نام و نشان تک مٹادیا۔ 



حمیرا عبدالستار (ایم اے سال اول)، رول نمبر 2k15/MC/18 


Sketchy, more details and insight is needed. Foto also.

  بیس سالوں میں کیا  تبدیل ہوا
 نئے پل سے بدین اسٹاپ تک
حميرا عبدالستار (ايم اي پريويس)، رول نمبر 2k15/MC/18
 وقت کے  ساتھ ساتھ بہت ساری چیزیں تبدیل ہوجاتی ہیں شحروں کے کئی علائقے آباد ہوتی ہیں۔ تو کئی علائے ویراں بھی ہوجاتے ہیں۔ صدیوں سے یہی سلسلہ چلا آرہا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو آج "موئن جو دڑو آباد ہوتا" آج بھی کئی شحروں کے آثار ہم ماضی کا پتہ بتاتے ہیں۔ تو کچھ آباد شہر ہمسے حال کے خوش حال ہونے کا پتہ دیتے ہیں۔ حیدرآباد جسے کبھی نیرون کوٹ بھی کہا جاتا تہا وہ آج  ہواوں کے شہر کے طور پے بھی پہچانا جاتا ہے وقت کے ساتھ ساتھ اس شہر میں بھی بہت خوب ترقی کی ہے۔ بہت سارے علائقے جو کبھی جنگل کے طور پر پہچانے جاتے تھے وہ آج شہر کے بازاروں میں تبدیل ہو چکہ ہیں۔ ہم جس علائقے کی بات کر رہے ہیں۔ وہ علائقہ نئے پل سے بدین اسٹاپ تک آباد ہے وقت کے ساتھ ساتھ اس علائقے نے بھی اہم تبدیلیاں پائیں ہیں۔
وقت کے ساتھ ساتھ اس علائقےمیں گہر جو آباد ہوئے لیکن اس علائقے نے بیس برس میں جو تبدیلیاں آئیں  میں اس پر بات کرنا چاہتی ہوں دیکھا جائے تو قدرتی وسیلوں سے مالا مال صوبہ سندھ پاکستان کے لوگوں کے  محنت سے بنا ہوا ہے۔  جہاں بنگال سے آئے ہوئے لوگوں نے کراچی کو اپنا ٹھکانا بنا لیا اس طرح کو ئٹہ اور دوسرے شہروں سے آئے ہوئے لوگوں نے حیدرآباد کی نئہ پل کو اپنا ٹھکانا بنا لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ علاقہ کاروباری مرکز بن گیا۔ پٹھانوں نے جوتوں کی دوکانے بنائیں یہ علاقہ جوتہ مارکیٹ کی نظر سے دیکھا جانے لگا۔ پہلیے یہاں چند دوکانیں تہیں لیکن 20 برس میں آبادی بھی بڑھتی گئی جن لوگوں نے یہ علاقہ آباد کیا تھا وہ لوگ کب کے مٹی اوڑھ کر سوچکے۔ اب جو نئی نسل آئی ہے اُسے تاریخ کا کوئی علم ہی نہیں اور یہ علاقہ اپنی تاریخ کو فراموش کرتا جارہا ہے۔
نئے پل والے علائقے سے آج بھی ریل کا گزر ہوتا ہے۔ بیس سالوں میں آج تک ریل نے اپنی پٹوالی تبدیل نہیں کی اور آج بھی ریلوے اسٹیشن تک جانے کے لیے لوگ اسی علاقے سے گذرتے ہیں۔ اس علاقے سے تھوڑا آگے سبزی منڈی واقعہ ہے بیس برس میں یہ سبزی منڈی بھی بڑھتی ہوئی بدین روڈ تک آپہچی ہے۔ یہ روڈ بیس برس پہلے اتنا آباد نہیں تھا جتنا اب ہے۔ دکانے تو بنی ہیں لیکن اسکے ساتھ ساتھ عمارتوں کا ھجوم  بھی کہڑا ہو گیا ہے۔ جسکے باعث علائقہ آبادی کے لحاظ سے پھیلتا جارہا ہے۔ اس کے  تھوڑا آگے بدین اسٹاپ قائم ہے۔ یہ بھی عجیب اتفاق ہے کے اس اسٹاپ کا نام بدین اسٹاپ سے لیکن صوبے کے اکثر علائقے/ شہروں کے لیے یہاں سے گاڑیاں مل جاتی ہیں پھر بھی لٌوگ اسے کھتے ہیں بدین اسٹاپ۔ یہ علائقہ بھی وقت کے ساتھ ساتھ آبادی کے لحاظ سے بڑھتا جا رہا ہے۔
یہ سارا علائقہ بڑی آبادی پے مشتمل ہے اس آبادی میں پٹھان بھی رہتے ہیں تو سندھی بھی اور کئی سالوں سے مہاجر بھی رہائش پذیر ہیں۔ اور یہاں کوئٹہ سے آنے والے لوگ کاروبار بھی کررہے ہیں لیکن ان لوگوں نے اس علائقہ کو آباد کیا تھا وقت نے انکا نام و نشان تک متا دیا ہے۔ پھر بھی یہ علائقہ آباد ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا جارہا ہے۔
                     

حیدرآباد کی سبزی منڈی Duplication

seems ok, but can not publish, we have already another piece of a part-iii student on same topic

حیدرآباد کی سبزی منڈی
حميرا عبدالستار (ايم اي پريويس)، رول نمبر 2k15/MC/18
شہروں کی بڑہتی ہوئی آبادی اور اس دنیا کی ترقی نے جہاں سب کجھ تبدیل کردیا ہے۔ وہاں لوگ بھی تو معروف ہوگئے ہیں۔ آج ہمارا وطن اتنا ترقی یافتہ تو نہیں ہوا کہ عام استعمال میں آنی والی چیزوں پہ بھی میعاد ختم ہونے کی تاریخ رکھی ہوئی ہو۔ لیکن پھر بھی ہم لوگ زمانے کے پیچھے اس طرح چلے آرہے ہیں۔  جس طرح ریل کا آخر ڈیا چلتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ گائوں بھی شہروں میں تبدیل ہورہے ہیں۔ اور ہر آدمی کے من میں آج کل یہی خواہش ہے کہ وہ کی بڑے شہر میں آباد ہوجائے۔ شہر تو ترقی کی طرف چلتے جا رہے ہیں لیکن آج بھی شہرون کو کھانے کیلئے سبزی دیہات فراہم کرتے ہیں۔ اور ان سبزیوں کو شہروں تک پہچانے میں سبزی منڈی کا اہم کردار ہوا کرتا ہے۔ اور سبزی منڈی ہر شہر میں ہوتی ہے۔

ہماری شہر حیدرآباد میں بھی ایک بڑی سبزی منڈی ہے جو نئی پل کے قریب ہے۔ پہلے حیدرآباد کی سبزی منڈی ٹاور مارکیٹ کے قریب ہوا کرتی تھی۔ لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ جب آبادی بڑھتی گئی اور سبزی منڈی والے جگہ کم پڑنے لگی تو سبزی منڈی بھی منتقل کردی گئی۔ اب یہ سبزی منڈی بدین روڈ پہ نئی پل کے قریب واقع ہے۔ لیکن ذرہ ٹہریے حیدرآباد کی بھینس کالونی چینل ناکہ کے پاس بھی تو سبزی منڈی کے لیے چند عمارتیں بنادی گئی ہیں۔ لیکن کوئی وہاں منتقل ہونے کیلئے تیار بھی نہیں۔ آپ بھی سوچیے بھلا ویران علائقے میں واپار کے لیے کون جائیگا۔
ہاں تو بات چل رہی ہے سبزی منڈی کی تو ذرہ آئیے ہم سبزی منڈی پہ نظر ڈالیں۔ ان کے ۱۲ بجے کے بعد خالی روڈ اور بند دکانیں رات کے وقت آباد ہونا شروع ہوتی ہیں۔ مختلف دیہات سے لوگ سبزی لے کہ آتے ہیں۔ اور ہاں شہر کے دکاندار، واپاری  اور کچھ دیہات کے لوگ بھی سبزی اور فروٹ لینے کیلئے سبزی منڈی میں آتے ہیں۔ یہ بازار صبح کی نماز کے وقت عروج پہ ہوتا ہے۔ حیدرآباد کے آسپاس میں آباد شہروں کے دکاندار بھی سبزی لینے  کیلئے اس سبزی منڈی میں آتے ہیں۔ جامشورو، مٹیاری، ٹنڈو محمد خان اور دوسرے  شہروں میں بھی یہاں سے سبزی بھیجی جاتی ہے۔ طرح طرح کے لوگ یہاں آتے ہیں۔ اکثر کسانوں کا بھی آنا ہوتا ہے کیوں کہ وہ فروٹ اور سبزیاں بیچنے کیلئے بھی آتے ہیں سبزی منڈی کا  کاروبار کس طرح چلتا ہے۔ اور اس کی نیلامی  کیسے ہوتی ہے۔ یہ بھی ایک الگ داستا ہے۔ سب سے پہلے تو ہر سال سبی منڈی کی نیلامی ہوتی ہے۔ اور پھر ایک سال کیلئے سبزی منڈی کا ٹھیکا دیا جاتا ہے۔ اور ٹھکیدار دکانوں کے کرایے اور ٹیکس سے اپنی رقم وصول کرتے ہیں۔ اور پھر منافع بھی کہاتے ہیں۔ سبزی منڈی کی نیلامی کا اختیار مارکیٹ کمیٹی اور میونسپل ایڈمنسٹریٹر کے پاس ہوتا ہے۔

ہر چیز کے اپنے اصول ہوتے ہیں۔ اس طرح سبزی منڈی کے بھی کچھ اصول ہوا کرتے ہیں۔ اور سبزی + فروٹ بھچنے کا بھی طریقیکار ہوا کرتا ہے۔ سبزی منڈی کے کچھ بیوپاری دکانیں خرید لیتے ہیں۔ لوگ انہوں کو سبزی اور فروٹ دیتے ہیں۔ اور یہاں سبزی منڈی میں آڑتی بھی ہوا کرتے ہیں۔ جو کسانوں سے سبزی اور فروٹ لیتے ہیں اور بیچتے ہیں۔ یہاں دکانوں پہ دام لگائے جاتی ہیں۔ ہر چیز کی بولی لگتی ہے۔ یہ بولی لگانے والی لوگ یا بیوپاری خریدا ہوا مال منافع رکھ کر آگے بیچ دیتے ہیں۔ اور کچھ لوگ دکانداروں اور آڑیتوں کو سبزی اور فروٹ دینے کی بجائے خود ہی بیجتے ہیں۔ اس لیے  تو بدین روڈ پہ صبح کے وقت عمومن رش ہی ہوا کرتے ہیں۔ رش ہونے کا سبب بھی یہی ہے۔ حیدرآباد کی سبزی منڈی سبزیوں کی آمد رفت کا وسیع ذریعا بھی ہے۔ آبادی بڑہنے کے ساتھ ساتھ کاروبار بھے وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ یہاں ہر روز ہزاریں گاڑیاں آتی ہیں۔ اور یہاں سے ملک کے مختلف علائقوں میں بھی سندھ میں پیدا ہونے والی سبزیاں بھیجی جاتی ہیں۔ اور یہ بھی ہے کہ ملک کے مختلف علائقوں سے سبزیاں بھی منگائی جاتی ہیں۔ یہاںسبزی کی خرید و فروخت تو ہوتی ہے لیکن سبزی منڈی کے بیوپاری بھی سبزی اور فروٹ کی قیمتیں طئہ کرنی میں اہم کردار ہوتا ہے۔ اور تو یہ کہ اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ سبزی منڈی کی بیوپاری کسی سبزی کا ریٹ بڑھانے کیلئے اس چیز کو مارکیٹ سے غائب کردیتے ہیں۔ اور انہوں کے دام از خود بڑھ جاتے ہیں۔

سبزی منڈی میں طرح طرح کی سبزیاں آتی ہیں اور کئی اقضام کے فروٹ بھی آتے ہیں۔ سبزی منڈی میں بھی حصے بنے ہوتے ہیں۔ حیدرآباد کی سبزی منڈی بھی اس طرح کی ہے۔ اس میں فروٹ کہیں علیحدہ حصے بنے ہوئے ہیں۔ لیکن اب تو ساری منڈی ایک ہے وقت کے ساتھ ساتھ اب اس سبی منڈی میں دکانے بھی بڑھ رہی ہیں۔ اور یہ کسی بھیڑھ کی طرح دکھائی دیتی ہے۔ صبح کے وقت بدین روڈ پہ رکھی ہوئی سبزیاں اور کھڑے ہوئے لوگ ٹریفک کے جام ہونے کا باعث بھی تو بنتے ہیں۔ اب تو یہ لوگوں کے لیے مشکلاتوں کا سبب بھی بن رہی ہے۔ مگر پھر بھی اس سے لوگوں کو فائدہ ہو رہا ہے۔ کیوں کہ جہاں یہ سبزی منڈی خرید و فروخت کا مرکز ہے وہاں بہت  سارے لوگوں کا اس سے روزگار جڑا ہوا ہے۔ اور یہات کے لوگ یہاں سبزیاں طرح طرح کے فروٹ بیچنے آتے ہیں۔ حیدرآباد کی یہ سبزی منڈی رات کے آخری پھر میں عروج پہ پہچتی ہے۔ اور صبح 10 بجے کے بعد اس کی رونقیں دھمی پڑ جاتی ہیں۔ بس کچھ آثار باقی رہ جاتے ہیں۔ جس سے یہ اُمید جاگتی ہے کہ پھر رات کے پہر میں اسے آباد ہونا ہے۔

Friday, August 21, 2015

Beat /Editing List-M.A Previous - MMA-2k15



M.A Previous (MMA-2k15)

Beat /Editing List-2015-2nd Semester
August 20, 2015

Roll No.
Name
Medium
Location
Editing issue No
Remarks
MMA/1
Abdul Rauf Abro


2,3

MMA /2
Adeel Qureshi


3,4

MMA /4
Aftab Ali Kalhoro


4,5

MMA /5
Akhtar Ahmed Sanghar


5,6

MMA /6
Ali Raza Pirzado


7,8

MMA /7
Ali Waqas Sahto


8,9

MMA /9
Aqeel Ahmed Soomro


2,3

MMA /10
Asad Ali Dahri


3,4

MMA /11
Ayaz Ali Umrani


5,6

MMA /13
Azhar Ali


6,7

MMA /14
Fahad Ahmed Nizamani


7,8

MMA /15
Faisal Khan Vighio


8,9

MMA /16
Ghulam Qadir Chandio


2,3

MMA /18
Humaira Bibi Rajput


3,4

MMA /20
Jamaludin - Samejo


4,5

MMA /21
Jameel Ahmed Syed


5,6

MMA /23
Junaid Mahmood Khuhro


6,7

MMA /25
Mehboob Ali Junejo


7,8

MMA /26
Mohram Ali Mangrio


8,9

MMA /27
Mohsin Tariq Arain


2,3

MMA /28
Muazil Shah


3,4

MMA /29
M. Fahim Raza Syed


4,5

MMA/30
M. Imran Abbasi


5,6

MMA /31
M. Meezan Mahesar


6,7

MMA /33
Muneer Jamali


7,8

MMA /34
Musrat Soomro


8,9

MMA /37
Rajesh Menghwar


2,3

MMA /38
Ronak Fatima Baloch


3,4

MMA /39
Saad Tasleem Khanzada


4,5

MMA /40
Saira
S
Edit-Board
5,6

MMA /41
Sanobar Shoro
E
Edit-Board
6,7

MMA /43
Sarang Sattar Khoso


7,8

MMA /44
Sarmad Baloch


8,9

MMA /46
Shaila Panhwar



2,3

MMA /47
Sheeraz Qadir Khaskheli




MMA /48
Sohail Ahmed


3,4

MMA /49
Muhammad Fahad Ali Syed


4,5

MMA /50



5,6

MMA /53
Ubedullah Solangi


6,7

MMA /55
Zakir Hussain Abro


7,8

MMA /57
Zoohaib Ahmed Arisar


8,9

MMA /59
Zulfiqar Ali Channa


2,3

MMA /60
Amna Liaquat Sangi


4,5

MMA /61
Mashooq Ali Lashari


5,6

MMA /62
Muhammad Osama


6,7